ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / قومی ایکتا پارٹی نے اویسی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیا

قومی ایکتا پارٹی نے اویسی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیا

Sun, 17 Jul 2016 18:54:46    S.O. News Service

 

سماجوادی پارٹی پرفرقہ پرستوں کے ساتھ اندرون خانہ سازبازکاالزام،مسلمانوں سے کئے وعدے پراکھلیش سے پوچھے سوال

لکھنؤ17جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے مشرقی حصوں میں سیاسی اثررکھنے والی قومی ایکتاپارٹی کے صدر افضال انصاری نے آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین اسدالدین اویسی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر اویسی بی جے پی سے قریبی ہونے کاالزام لگنے کی وجہ سے ’’اچھوت‘‘ہیں تو بھگوا پارٹی کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھ ملا کر چلنے والے ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو ناقابل اعتماد کیوں نہیں ہیں۔پارٹی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی آئندہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد کے سلسلے میں اگست میں کوئی فیصلہ لے گی۔انصاری نے اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر اپنی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکیلے اتنی بڑی جنگ میں اعلان کرنا بیوقوفی کی بات ہے، اس کیلئے ساتھی تلاش کرنے ہوں گے۔وہ چاہتے ہیں کہ سیاست میں نجی نیک نامی اوربدنامی کی وجہ سے کوئی بڑافائدہ ان فرقہ پرست طاقتوں کو نہیں پہنچے جن سے لڑتے ہوئے انہوں نے35-40سال کاسیاسی سفرطے کیا ہے۔ایسی طاقتوں میں ایس پی بھی شامل ہے۔اتر پردیش میں جڑیں جمانے کی کوشش میں مصروف اویسی کی پارٹی آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین سے اتحاد کا امکان کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اویسی کوئی’’اچھوت‘‘نہیں ہیں۔حالات اور وقت کی نزاکت انسان کو نئے فیصلے لینے کے لیے مجبورکرتی ہے۔اویسی کے بی جے پی کے تئیں جھکاؤ کے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر انصاری نے سوال کیاکہ آپ پہلے ہمیں یہ بتا دیں کہ کیا سماج وادی پارٹی کے لوگوں کے تعلقات بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔کیا بی ایس پی کے رشتے بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔اویسی یا افضال انصاری کواپنے سیکولر ہونے کیلئے کسی سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر اویسی بہار میں اسمبلی انتخابات لڑنے گئے تھے، تو کیا ملائم سنگھ نہیں گئے تھے، کیا یہ سوال ایس پی سربراہ سے نہیں کیا جائے گا۔کیا مایاوتی گجرات نہیں گئی تھیں، کیا ملائم سنگھ گجرات نہیں گئے تھے۔لوگ حالات اور وقت کے حساب سے فیصلے لیتے ہیں۔ہم سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ ہمارے کسی اقدام کا فائدہ فرقہ پرست طاقتوں کو نہیں ہو۔ایس پی پر نشانہ لگاتے ہوئے انصاری نے کہا کہ آپ کو(ایس پی))فائدہ پہنچتا رہے، آپ فرقہ پرستوں سے اندر ہی اندر ہاتھ ملائے رہیں اور ہم آپ کے خلاف کچھ نہ بول کرآپ کو فائدہ پہنچاتے رہیں۔اس ملک کے مسلمانوں کو کبھی نہ کبھی یہ سوچنا پڑے گا کہ خود کو سیکولر کہنے والی یہ پارٹی،مسلمانوں کے مفادات کے تئیں کتنی سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے انتخابی منشور کو دیکھیں تو پتہ لگے گاکہ مسلمانوں سے کئے گئے کتنے وعدے پورے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’ پورے ہوئے وعدے، اب ہیں نئے ارادے‘‘کی بات کرنے والے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کیلئے خزانے کی گٹھری کھول دی ہے۔لیکن اب اسے کھولنے کا کیا فائدہ ہے کیونکہ دو ماہ بعد ہی الیکشن کمیشن فعال ہو جائے گا۔پارٹی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی آئندہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد کے سلسلے میں اگست میں کوئی فیصلہ لے گی۔انہوں نے اوم پرکاش راج بھر والی سہیلدیوبھارتی سماج پارٹی(بھاسپا)سے اتحاد کو بی جے پی کے لیے فائدہ مند بتاتے ہوئے کہا کہ محنت کش غریب طبقے کی ریاست بھرمیں پوروانچل کے 17اضلاع میں خاصی آبادی ہے۔تقریباََ 50اسمبلی حلقوں میں پانچ سے50ہزار تک راج بھر ووٹر ہیں۔انصاری نے دعویٰ کیا کہ اس بار کے اسمبلی انتخابات مزہ دار ہو جائے گا اور بی جے پی کے لیے ریاست کے اقتدار پر قبضہ کر پانا اور ایس پی کی واپس اقتدار میں لوٹ آنا بالکل بھی آسان نہیں ہوگا۔مایاوتی بھی ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں۔


Share: